نئی دہلی،31/جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی) بہارکے بھبھوا روڈ اسٹیشن پر ایک ٹرین غلط پٹری پر تقریباً 2 کلومیٹر تک دوڑتی چلی گئی، لیکن قسمت اچھی تھی کہ اس پٹری پر دوسری طرف سے کوئی ٹرین نہیں آرہی تھی۔ ورنہ بالاسور جیسا بڑا ریل حادثہ پیش آسکتا تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ 15 دنوں کے اندر دوسری مرتبہ ایسا ہوا ہے جب بہار میں ٹرین غلط پٹری پر دوڑتی چلی گئی ہے۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق معاملہ اتوار کو پیش آیا جب جموں توی سے سیالدہ جارہی 13152 جموں توی سیالدہ ایکسپریس بھبھوا روڈ اسٹیشن کے مغربی جانب ریڈ سگنل پار کر گئی۔ بتایا جارہا ہے کہ سگنل ریڈ ہونے کے بعد بھی ٹرین اس پٹری پر تقریباً دو کلومیٹر تک دوڑتی رہی۔ اس واقعہ کے بعد مسافروں نے خوب ہنگامہ کیا۔ ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ اگر سامنے سے کوئی ٹرین آ رہی ہوتی تو بڑا حادثہ ہو سکتا تھا۔
بتایا جا رہا ہے کہ صبح 7 بج کر 7 منٹ پر یہ ٹرین تیز رفتاری کے ساتھ سگنل پار کر گئی۔ اس کے بعد ٹرین کے گارڈ نے اس کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایمرجنسی بریک لگادیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ گارڈ اور اسٹیشن ماسٹر کی مستعدی کے سبب ایک بڑا ٹرین حادثہ ہوتے ہوتے بچا۔
جب ٹرین کے غلط پٹری پر دوڑنے کی خبر پھیلی تو ریل افسران کی حالت دگرگوں ہو گئی۔ واقعہ کے بعد اس کی جانکاری پنڈت دین دیال اپادھیائے ریل ڈویژن اور حاجی پور زون کو دی گئی۔ اس کے بعد موقع پر زونل چیف سیکورٹی افسر پربھات کمار اور ڈی آر ایم راجیش گپتا پہنچے۔ بھبھوا اسٹیشن پہنچے ریلوے کے اعلیٰ افسران نے ریل گارڈ، لوکو پائلٹ اور دوسرے افسران سے معاملے کی جانکاری لی۔ اس کے بعد یہ ٹرین بھبھوا اسٹیشن پر تقریباً تین گھنٹے تک کھڑی رہی۔ پنڈت دین دیال اپادھیائے اسٹیشن سے جب دوسرا گارڈ اور ڈرائیور یہاں پہنچا تب ٹرین کو روانہ کیا گیا۔
اس تعلق سے اعلیٰ افسران کو بتایا گیا کہ مغربی کیبن کے پاس ٹرین کو ریڈ سگنل دیا گیا تھا۔ بھبھوا اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر 3 پر آسنسول پیسنجر ٹرین کھڑی تھی۔ اس کے روانہ ہونے کے بعد جموں توی ایکسپریس کو پلیٹ فارم نمبر3 پر بھیجنا تھا۔ ریڈ سگنل ہونے کے بعد بھی گاڑی سگنل پار کر گئی۔ جس کے بعد گارڈ محمد شمیم خان نے ایمرجنسی بریک لگادئے۔